غزہ میں جنگ بندی کا پہلے مرحلہ ختم ہونے کے بعد اسرائیل نے کھانے پینے سمیت ہر قسم کے سامان کا داخلہ روک دیا

08:033/03/2025, پیر
جنرل3/03/2025, پیر
ویب ڈیسک
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے مطالبہ کیا کہ انسانی امداد کو فوراً غزہ میں جانے دیا جائے۔
تصویر : فوٹو کمپنی / شٹر سٹاک
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے مطالبہ کیا کہ انسانی امداد کو فوراً غزہ میں جانے دیا جائے۔

غزہ میں جنگ بندی کا پہلے مرحلہ ختم ہونے کے بعد اسرائیل نے علاقے میں کھانے پینے سمیت ہر قسم کے سامان کا داخلہ روک دیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی امداد روکی جا رہی ہے کیونکہ حماس نے امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی جانب سے پیش کیے جانے والے معاہدے کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فوجیوں کی غزہ سے انخلا کے بغیر حماس یرغمالیوں کی رہائی جاری رکھے گا۔

اسرائیل نے کہا کہ چونکہ یرغمالیوں کے معاہدے کا پہلا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور حماس نے امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کا منصوبہ ماننے سے انکار کر دیا ہے، جسے اسرائیل نے قبول کر لیا تھا، اس لیے وزیر اعظم نیتن یاہو نے فیصلہ کیا ہے کہ آج صبح سے غزہ میں کسی بھی قسم کی اشیاء اور سامان کی ترسیل بند کر دی جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل جنگ بندی کو یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر قبول نہیں کرے گا۔ اگر حماس نے اسے نہ مانا تو مزید نتائج بھگتنا ہوں گے۔

غزہ میں کھانے پیسے کی اشیا اور امداد روکنے کے اعلان کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو کے ترجمان عومر دوسٹری نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ آج صبح کوئی ٹرک غزہ میں داخل نہیں ہوا، اور فی الحال کوئی ٹرک نہیں جائے گا۔

اتوار کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے مطالبہ کیا کہ انسانی امداد کو فوراً غزہ میں جانے دیا جائے۔

اتوار کی صبح تک امریکہ نے وٹکوف منصوبے کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی تھی۔

حماس نے امداد روکنے کو ’جنگی جرم‘ اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اپنے بیان میں حماس نے کہا کہ نیتن یاہو کا انسانی امداد روکنے کا فیصلہ ’سستی بلیک میلنگ، جنگی جرم، اور جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی‘ ہے۔

حماس نے کہا کہ ’ثالثی ممالک کے ساتھ جو جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا ہم اسی پر قائم ہے، جس کے تحت جنگ بندی معاہدہ اب دوسرے مرحلے میں داخل ہونے والا تھا۔ اس مرحلے میں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات شامل تھے‘۔

حماس کے ایک سینئر عہدیدار محمود مرداوی نے الجزیرہ کو بتایا کہ گروپ بقیہ اسرائیلی یرغمالیوں کو صرف اسی مرحلہ وار معاہدے کی شرائط کے تحت رہا کرے گا جو پہلے سے طے ہیں۔

امدادی حکام کا کہنا ہے کہ اگر خوراک کی ترسیل دوبارہ شروع ہو جائے تو پھر بھی غزہ کے لوگ اب بھی شدید خطرے میں ہیں۔ وہاں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، بیشتر ہسپتال اور کلینک تباہ ہو چکے ہیں، سخت سردی میں بے گھر ہونے والے لوگ بغیر چھت تلے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ مسائل وہاں موجود 22 لاکھ افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اس سال جنوری کو سیز فائر ہوا تھا جس کے پہلے مرحلے دوران 33 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے تقریباً 1,900 فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کو رہا کیا گیا۔


#جنگ بندی
#اسرائیل حماس جنگ
#جنگ