
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع سبی میں بی ایل اے کے شدت پسندوں نے ٹرین کو ہائی جیک کرکے مسافروں کو یرغمال بنالیا ہے جس کے لیے پاک فوج کا آپریشن اب بھی جاری ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یرغمالیوں کے ساتھ موجود شدت پسندوں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی ہیں جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن مزید مشکل ہوگیا ہے۔
یہ واقعہ منگل کی دوپہر ایک بجے پیش آیا جب جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی۔ شدت پسندوں نے پہلے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑا دیا تھا اور پھر ٹرین پر فائرنگ کردی۔
پاکستانی فورسز نے 155 مسافروں کو بازیاب کروا لیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ باقی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سیکیورٹی آپریشن جاری ہے، تاہم یرغمال بنائے گئے افراد کی درست تعداد نہیں بتائی گئی۔
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر فوج کے ہاتھوں لاپتا کیے گئے بلوچ سیاسی قیدیوں، کارکنوں اور دیگر افراد کو 48 گھنٹوں میں رہا نہ کیا گیا تو وہ یرغمالیوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے۔
بی ایل اے نے منگل کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے 214 افراد کو یرغمال بنایا ہے، جبکہ ایک سیکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حملے کے وقت ٹرین میں 425 مسافر سوار تھے۔
حملے میں ملوث دہشتگردوں کی صحیح تعداد واضح نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز تک 27 حملہ آور مارے جا چکے تھے۔
بی ایل اے بلوچستان میں سرگرم متعدد مسلح گروہوں میں سب سے بڑا گروہ ہے، جو پاکستان کی حکومت کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
کچھ مسافروں کی ہلاکت، عینی شاہدین کا دعویٰ
ٹرین میں موجود محمد اشرف نے بتایا کہ ’لوگوں پر حملہ کیا گیا، مسافر زخمی ہوئے اور کچھ مسافر جان سے گئے۔‘
اس دوران صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی بھی بازیاب کرائے گئے مسافروں سے ملنے آئے، تاہم ان میں سے ایک خاتون، جن کا بیٹے کو یرغمال بنالیا گیا ہے، صوبائی وزیر سے الجھ پڑیں۔
خاتون نے کہا کہ ’اگر آپ ٹرینوں کی حفاظت نہیں کر سکتے، تو انہیں چلائیں مت۔ براہ کرم، میرے بیٹے کو واپس لائیں۔‘
مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان ریلوے نے پنجاب اور سندھ سے بلوچستان جانے والی تمام ٹرین سروسز معطل کر دی ہیں۔






