پاکستان 2024 میں دنیا کی سب سے بڑی سولر مارکیٹ میں شامل: رپورٹ

06:3915/04/2025, Salı
جنرل15/04/2025, Salı
ویب ڈیسک
پاکستان 2024 میں دنیا کی سب سے بڑی سولر مارکیٹ میں شامل: رپورٹ
تصویر : روئٹرز / فائل
پاکستان 2024 میں دنیا کی سب سے بڑی سولر مارکیٹ میں شامل: رپورٹ

پاکستان دنیا کے بڑے سولر مارکیٹ والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا اور صرف ایک سال میں 17 گیگا واٹ کے سولر پینلز امپورٹ کرنے والا ملک بن گیا۔

عرب نیوز کی
کے مطابق 2024 میں عالمی سطح پر شمسی توانائی (سولر پاور) سے 2 ہزار ٹیرا واٹ آور سے زیادہ بجلی پیدا ہوئی اور یہ مقدار پچھلے سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔

دنیا بھر میں سولر پاور سے بجلی کی پیداوار جب 100 ٹیرا واٹ آور تھی، تو اسے ایک ہزار ٹیرا واٹ آور تک پہنچنے میں 8 سال لگے۔ لیکن پھر صرف 3 سال میں یہ پیداوار 2 ہزار ٹیرا واٹ آور سے بھی زیادہ ہو گئی۔

اب شمسی توانائی (سولر پاور) اتنی سستی ہو چکی ہے کہ صرف ایک سال کے اندر کسی بھی ملک میں بڑی سولر مارکیٹ ابھر سکتی ہے اور 2024 میں پاکستان اس کی واضح مثال بنا۔

پاکستان میں مہنگی بجلی — جو زیادہ تر نجی تھرمل پاور اسٹیشنز کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے ہے — لوگوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گئی تھی۔

اسی وجہ سے گھروں اور کاروباری اداروں میں چھتوں پر سولر سسٹم لگانے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا تاکہ لوگ سستی بجلی حاصل کر سکیں۔

گلوبل الیکٹریسٹی ریویو 2025 کے مطابق پاکستان نے 2024 میں صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے 17 گیگا واٹ کے سولر پینلز امپورٹ کیے، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں دگنی مقدار ہے۔

’صرف ایک سال میں پاکستان نئی سولر تنصیبات کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں شامل ہو گیا۔‘

پاکستان کی مثال سے واضح ہے کہ کم لاگت اور تیزی سے نصب ہونے والی سولر پاور کس طرح بجلی کے نظام کو بہت تیزی سے بدل سکتے ہیں۔

یہ تبدیلی خوش آئند ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس رفتار کو پائیدار اور منظم بنانے کے لیے بجلی کے نظام کی منصوبہ بندی اور قوانین و ضوابط کو بھی اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔

مڈل ایسٹ میں سعودی عرب نے 2024 میں 16 گیگا واٹ سولر پینلز امپورٹ کیے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں دگنا تھا۔

عمان میں 2024 میں سب سے 2.5 گیگا واٹ سولر پینلز امپورٹ ہوئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ گنا اضافہ دیکھا گیا۔

جبکہ نائجیریا اور مراکش جیسے ممالک نے پہلی بار ایک ہی سال میں 1 گیگا واٹ سے زیادہ سولر پینلز امپورٹ کیے۔

دنیا بھر میں شمسی توانائی کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

پچھلے پانچ سالوں میں 99 ممالک نے سولر پاور سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار کو دگنا کیا اور اب دنیا کی زیادہ تر شمسی توانائی غیر ترقی یافتہ ممالک سے آ رہی ہے جو کہ 58 فیصد ہے، اور ان میں چین کا حصہ 39 فیصد ہے۔



#سولر پاور
#پاکستان
#سعودی عرب
#بجلی