
اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ریپ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد امریکا کا کہنا ہے کہ قیدیوں پر جنسی تشدد یا ریپ کسی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔
خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ کسی بھی قیدی کے ساتھ ریپ یا جنسی تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ امریکا اس پر پختہ یقین رکھتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اگر کسی قیدی کے ساتھ جنسی تشدد، ریپ ہوا ہے تو اسرائیلی حکومت کو اس کی مکمل تحقیقات کرنی چاہیے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ ‘
میتھیو ملر نے کہا کہ ’اسرائیلی حراستی مرکز میں قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد اور ریپ کی ویڈیو اور رپورٹس ’خوفناک‘ ہیں۔ قدیوں کے انسانی حقوق کا احترام ہر صورت ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے اس حوالے سے تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور ایسے کئی لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر ایسے جرائم میں ملوث ہیں۔ میں ان تحقیقات کے نتائج کے بارے میں بات نہیں کروں گا لیکن اسے تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے۔‘

امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی میڈیا نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں مبینہ طور پر اسرائیلی فوجیوں کو ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ ریپ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ فوٹیج اسرائیلی چینل این 21 نے نشر کی۔ یہ ویڈیو اسرائیل کے حراستی مرکز کی ہے جہاں قیدیوں کی آنکھوں میں پٹی بندھی ہوئی ہے اور وہ زمین پر لیٹے ہوئے ہیں ۔اس دوران متعدد اسرائیلی فوجی کو ایک فلسطینی قیدی کو ایک کونے میں لے جا رہے ہیں۔
فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل کے مطابق تیس سالہ متاثرہ شخص کی حالت تشویش ناک ہے جو اسرائیل کے سرکاری ہسپتال میں داخل ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی طرف سے گزشتہ ہفتے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں پر تشدد، بدسلوکی اور ریپ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ریپ، تشدد اور بدسلوکی کی رپورٹس پر ’تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کرائن جین پیئر نے کہا کہ ’قانون پر عمل ہونا چاہیے تاکہ انصاف قائم رہے‘۔
اسرائیلی ڈیفنس فورس نے لیک ہونے والی ویڈیو اور امریکی محکمہ خارجہ کے تبصرے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
لیکن اسرائیلی فوج نے پہلے لگائے گئے الزامات کے جواب میں کہا کہ وہ قانون کے مطابق کام کررہے ہیں اور کسی بھی قسم کی بدسلوکی کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں اسرائیلی جیل میں غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ریپ کی متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ اسرائیلی حکام اکثر واقعات کی تحقیقات کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ٹھوس نتائج اب تک جاری نہیں کیے۔
اسرائیل 7 اکتوبر سے غزہ میں تقریباً 40 ہزار فلسطینیوں کو قتل کر چکا ہے۔ اسرائیل پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کا بھی الزام ہے۔






