
غزہ میں اسرائیل کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 61 ہزار 709 تک پہنچ گئی ہے، جس میں وہ ہزاروں افراد بھی شامل ہیں جو کئی مہینوں پہلے لاپتہ ہوگئے تھے اور اب انہیں مردہ قرا دے دیا گیا ہے۔
غزہ گورنمنٹ انفارمیشن آفس کے سربراہ کے مطابق اس جنگ میں مارے جانے والے 76 فیصد فلسطینیوں کی لاشیں مل گئی ہیں اور میڈیکل سینٹرز تک پہنچا دی گئی ہیں۔ تاہم کم از کم 14 ہزار 222 افراد اب بھی ملبے کے نیچے یا ایسی جگہوں پر پھنسے ہوئے ہیں جہاں امدادی کارکن نہیں پہنچ سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’20 لاکھ سے زیادہ افراد کو زبردستی اپنے گھروں سے نکالا جاچکا ہے، جن میں سے بعض 25 سے زیادہ بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور وہ بنیادی سہولیات کے بغیر سنگین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں رہ رہے ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غزہ میں اب تک قریب ایک لاکھ 11 ہزار 588 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ تازہ اعداد و شمار اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوران سامنے آئے ہیں۔
یہ جنگ بندی کم از کم مارچ کے شروع تک جاری رہنے کی توقع ہے، سیز فائر کی وجہ سے فلسطینی امدادی کارکن ان علاقوں تک پہنچ رہے ہیں جہاں وہ پہلے نہیں جا سکتے تھے تاکہ ملبے کے نیچے پھنسی لاشوں کی نکالا جاسکے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی حملے کے دوران کم از کم ایک ہزار 155 طبی عملے کے افراد، 205 صحافی اور 194 سول ڈیفنس کارکن بھی مارے گئے ہیں۔
سیز فائر معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات
تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی جانب بڑھنے کے لیے مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔
قطر، مصر اور امریکہ آج سیز فائر کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے، لیکن اگر وہ اسرائیل اور حماس کو کسی معاہدے پر نہ لا سکے تو مارچ میں غزہ جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے امریکہ کے شہر واشنگٹن میں موجود ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان پر دائیں بازو کے سخت گیر اتحادیوں کا دباؤ ہے کہ جنگ بندی کو ختم کر کے لڑائی جاری رکھی جائے۔
امریکہ جانے سے پہلے نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اور ٹرمپ سے ’حماس کے خلاف فتح، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی دہشت گرد نیٹ ورک سے نمٹنے‘ پر بات کریں گے۔









