سعودی عرب کی ٹرمپ کے غزہ پر قبضے سے متعلق بیان کی مذمت

08:266/02/2025, جمعرات
جنرل6/02/2025, جمعرات
ویب ڈیسک
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اس موقف کو واضح اور کھلے انداز میں دہرایا ہے۔
تصویر : اے ایف پی / فائل
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اس موقف کو واضح اور کھلے انداز میں دہرایا ہے۔

سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کی منظوری نہیں دی جائے گی جب تک فلسطینیوں کو اپنی خود مختار ریاست نہیں ملتی۔

سعودی وزارت خارجہ نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سعودی عرب کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا‘۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اس موقف کو واضح اور کھلے انداز میں دہرایا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو گا اور سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اس وقت تک قائم نہیں کرے گا جب تک یہ معاملہ حل نہ ہو جائے۔

دیگر عرب ممالک نے ٹرمپ کے متنازع بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اردن کے شاہی دربار نے ایک بیان میں کہا کہ ’شاہ عبداللہ دوم نے اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور زمین پر قبضہ کرنے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کی۔‘

قطری حکام نے کہا کہ غزہ پر کنٹرول کے بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا، کیونکہ حماس اور اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ بندی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

قطری حکام مجید الانصاری نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ فلسطینیوں کے لیے بے دخلی کے حوالے سے بہت زیادہ صدمہ ہے، لیکن پھر بھی اس پر بات کرنا قبل از وقت ہے، کیونکہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ جنگ کس طرح ختم ہوگی۔‘

یاد رہے کہ قطر غزہ کی جنگ بندی میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی جمعرات کو فلوریڈا میں ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کریں گے تاکہ آگے کی حکمت عملی پر بات چیت کی جا سکے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ غزہ پر قبضہ کرکے اسے دوبارہ تعمیر کرے گا اور فلسطینیوں کو کہیں اور آباد کیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی۔

ٹرمپ کا یہ اقدام سعودی عرب کے متعدد بیانات سے مختلف ہے، سعودی عرب نے ہمیشہ عرب امن اقدام کی حمایت کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جائے گا جب تک فلسطینی ریاست کا قیام نہ ہو۔


یہ بھی پڑھیں:


#سعودی عرب
#امریکا
#مشرق وسطیٰ
#حماس اسرائیل جنگ
#غزہ