
اسرائیلی فوجی طیاروں نے شام کے دارالحکومت دمشق اور صوبے حمص میں حملے کیے ہیں۔
شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صنا کے مطابق بدھ کو ہونے والے حملوں میں دمشق کے بارزہ محلے میں سائنسی تحقیق کے مرکز کے قریب اور شام کے شہر حما کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے شام کے حما شہر میں فوجی اڈوں اور حمص کے ٹی فور فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، ساتھ ہی دمشق میں مبینہ فوجی انفراسٹرکچر کی سائٹس پر بھی حملہ کیا۔
دسمبر میں شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد سے اسرائیل نے شام میں سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں اور مقبوضہ گولان ہائٹس پر اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفر زون میں اپنی افواج تعینات کی ہیں۔
حتیٰ کہ جب بشار الاسد اقتدار میں تھے، اسرائیل نے باقاعدگی سے شام پر حملے کیے تھے، جن میں وہ ایرانی اور حزب اللہ کے مقاصد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتا تھا۔
بشار الاسد کے 8 دسمبر کو اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد کے دنوں میں برطانیہ میں قائم جنگی نگرانی کرنے والی تنظیم ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے اسرائیلی فضائی حملوں کی رپورٹ دی، جن میں دمشق کے بارزہ علاقے میں سائنسی تحقیق کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ مرکز راہنمائی شدہ میزائلوں اور کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
تنظیم کے مطابق اسرائیلی فوج نے 8 دسمبر سے 31 دسمبر 2024 کے درمیان شام میں 500 سے زائد فضائی حملے کیے اور اس سال اب تک کم از کم 43 حملے کیے ہیں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاز نے گزشتہ ماہ یروشلم کے دورے کے دوران کہا کہ شام پر اسرائیلی حملے غیر ضروری ہیں اور یہ صورتحال کو مزید بگاڑنے کا خطرہ ہیں۔
شام کی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر ملک کی استحکام کے خلاف ایک مہم چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔









