ٹرمپ کا پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا کیا مطلب ہے اور اس سے ملک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

07:443/04/2025, جمعرات
جنرل3/04/2025, جمعرات
ویب ڈیسک
ٹرمپ نے پاکستان پر 29 فیصد ٹیکس عائد کردیا،
تصویر : نیوز ایجنسی / روئٹرز
ٹرمپ نے پاکستان پر 29 فیصد ٹیکس عائد کردیا،

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے امپورٹ کی جانے والی اشیاء پر 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی اتحادیوں اور حریفوں سمیت کئی دیگر ممالک پر بھی امپورٹڈ ٹیرف بڑھا دیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے امریکہ میں آنے والی بیشتر امپورٹس پر 10 فیصد ٹیرف لگایا، جس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ٹرمپ کے اعلان کے دوران دکھائے گئے ایک چارٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف اس لیے عائد کیا کیونکہ پاکستان امریکی اشیاء پر 58 فیصد ٹیکس وصول کرتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ اعلان بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں کیا۔ اس فیصلے کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی اور دنیا بھر کے رہنماؤں نے اس کی مذمت کی، کیونکہ ٹرمپ کے اس فیصلے سے وہ پالیسی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے جو کئی دہائیوں سے دنیا میں آزادانہ تجارت (یعنی فری ٹریڈ) کو فروغ دے رہی تھی۔


پاکستان کی سابق سفیر برائے امریکہ ملیحہ لودھی نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیکسوں سے پاکستان متاثر ہوگا، کیونکہ امریکہ اس کا ایک بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔

انہوں نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو ایک جھٹکا لگے گا جس کی زیادہ تر ایکسپورٹس امریکہ جاتی ہیں اور کم منافع والی ٹیکسٹائل کیٹیگریز زیادہ دباؤ میں آجائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو دیکھنا ہوگا کہ وہ اس صورتحال کے مطابق خود کو کیسے ڈھالتا ہے، ملک کو دیگر ممالک میں نئی تجارتی منڈیاں (مارکیٹس) تلاش کرنی ہوں گی تاکہ وہ اپنی ایکسپورٹس کو بڑھا سکے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو اپنی مصنوعات کو اس طرح بہتر اور سستا بنانا ہوگا کہ وہ عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کی اشیاء کا مقابلہ کر سکیں۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ ’ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ چاہے امریکہ ہم پر ٹیکس لگائے یا نہ لگائے، ہماری ایکسپورٹس کی کارکردگی واشنگٹن میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں طے ہوتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنی معیشت میں ضروری تبدیلیاں کرنی ہوں گی تاکہ برآمدات کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک صرف چند مخصوص اشیاء پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف اقسام کی مصنوعات ایکسپورٹ کرے۔

عالمی معیشت کے حوالے سے سابق سفیر نے اسے ایک منفی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ چائنہ اور یورپی یونین کا اس معاملے میں اہم کردار ہوگا، خاص طور پر اس وجہ سے کہ ان کے امریکہ کے ساتھ قریبی تجارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔


ٹرمپ کے اس اعلان پر فوری منفی اثرات ہوں گے، ماہرین

امریکہ نے اپنی نئی ٹیرف پالیسی کے تحت پاکستان پر 29 فیصد فکس ٹیرف لگا دیا ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات جیسے کپڑے، چاول، اور سرجیکل آلات امریکہ میں مہنگے ہو جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ پاکستانی ایکسپورٹرز کو نقصان پہنچے گا کیونکہ کم مال بکے گا۔

پاکستان کا تجارتی توازن امریکہ کے ساتھ مثبت تھا، یعنی پاکستان امریکہ کو زیادہ سامان بیچتا ہے اور کم خریدتا ہے۔ لیکن اس فیصلے کے بعد پاکستان کے لیے ممکنہ طور پر ڈالر کی آمد رک سکتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہر اقتصادیات ساجد امین نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے اس اعلان پر فوری منفی اثرات ہوں گے کیونکہ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ امریکہ پر پاکستان کی مصنوعات کی قیمتیں زیادہ ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنی مصنوعات کی قیمت کم کرنے کے لیے سبسڈی دینی پڑ سکتی ہے۔ اس سے پاکستان کی مصنوعات امریکہ میں سستی ہوں گی اور امریکہ میں ان کی خریداری زیادہ ہو گی۔ اس طرح پاکستان اپنا تجارتی خسارہ کم کر سکے گا۔ یہ سب اس لیے کرنا پڑے گا تاکہ پاکستان عالمی مارکیٹ میں بہتر طور پر مقابلہ کر سکے۔

انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ’چیلنج یہ ہوگا کہ آیا آئی ایم ایف ملک کو سبسڈی دینے کی اجازت دے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلے، ہمیں فوری منفی اثرات کو دور کرنا ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کے ٹیرف بنگلہ دیش اور ویتنام کے مقابلے میں کم ہیں، یہ ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے ہمیں نیا سوچنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ درمیانی اور طویل مدتی اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ پاکستان فوری منفی اثرات کو کیسے دور کرتا ہے اور کس طرح ان صنعتوں میں جدت لاتا ہے جہاں پاکستان کو دیگر ممالک کے مقابلے میں فائدہ ہو جو ٹیرف سے متاثر ہیں۔



’پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل صنعتیں امریکی نئے ٹیرف سے متاثر ہو سکتی ہیں‘

واشنگٹن اور جنوبی ایشیائی ممالک کے تعلقات کے ماہر مائیکل کوگلمین نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ ’ٹیکسٹائل (جو پاکستان اور بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے) ان نئے ٹیکسوں سے شدید متاثر ہو سکتی ہے۔‘

کوگلمین نے یہ بھی کہا کہ جنوبی ایشیا کے چار بڑے ممالک، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا، پہلے سے ہی معاشی مشکلات اور دباؤ کا شکار ہیں اور امریکہ کے نئے تجارتی ٹیکسوں سے ان پر مزید منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی امریکہ کے اسٹاک مارکیٹس نے فروری اب تک تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کو 20 فیصد پہلے سے عائد ٹیکس کے علاوہ مزید 34 فیصد ٹیکس کا سامنا ہے، جس پر چین نے امریکہ سے فوری طور پر اپنے نئے ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کیا اور جوابی اقدامات کی دھمکی دی۔

امریکہ نے انڈیا سے امپورٹس پر 26 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، جو کہ توقعات کے برعکس تھا۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے انڈیا کی فارماسیوٹیکل برآمدات کو اس ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا، جس سے انڈیا کی فارما انڈسٹری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

امریکی خزانے کے وزیر اسکاٹ بیسینٹ نے دوسرے ممالک کو جوابی ٹیرف عائد کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی، کیونکہ ایسا کرنے سے قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے، جو صارفین کے لیے مشکلات کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ جوابی کارروائی کریں گے، تو یہ معاملہ تصادم کی طرف بڑھے گا‘۔

امریکہ کے قریبی اتحادی بھی ٹرمپ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکے، جن میں یورپی یونین شامل ہے، جس پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور جاپان جس کو 24 فیصد ٹیکس کا سامنا ہے۔ جاپان نے کہا کہ وہ ان ٹیکسوں کے جواب میں تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

امریکہ میں 5 اپریل سے 10 فیصد کا بنیادی ٹیکس نافذ ہو جائے گا، اور اس سے زیادہ جوابی ٹیکس (جو کہ دوسرے ممالک کی جانب سے لگائے گئے ٹیکسوں کا جواب ہوں گے) 9 اپریل سے نافذ ہوں گے۔

ٹرمپ کے دورِ حکومت میں امریکی امپورٹس پر ٹیکس کی شرح 2024 میں 2.5 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ معلومات فِچ ریٹنگز کے امریکی تحقیقاتی شعبے کے سربراہ نے دی ہیں۔



یہ بھی پڑھیں:





#امریکا
#ٹیرف
#پاکستان
#ڈونلڈ ٹرمپ