
انڈیا کی پارلیمنٹ لوک سبھا (ایوان زریں) نے ایک متنازع بل منظور کیا ہے جسے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے پیش کیا۔ یہ بل مسلمانوں کے اوقاف (جو ان کے مذہبی یا فلاحی مقاصد کے لیے دی گئی زمین یا جائیدادیں ہیں) کے قوانین میں تبدیلی سے متعلق ہے جس کی مالیت 14 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس بل کے تحت غیر مسلم افراد کو بھی ان اوقاف کے بورڈز میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور حکومت کو اوقاف کی زمین کی ملکیت کی تصدیق کرنے میں مزید اختیارات دے دیے گئے ہیں۔
اوقاف وہ چیزیں یا املاک ہیں جو کسی شخص یا ادارے نے کسی مذہبی، فلاحی یا سماجی مقصد کے لیے مستقل طور پر عطیہ کی ہوں۔ ان املاک یا چیزوں کا استعمال مخصوص مقصد کے لیے کیا جاتا ہے اور ان کو واپس نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر، کسی شخص نے اپنی زمین یا جائیداد کو کسی مسجد، مدرسہ یا غریبوں کی مدد کے لیے وقف کر دیا ہو، تو وہ زمین یا جائیداد ’اوقاف‘ کہلاتی ہے۔ اوقاف کے ذریعے عطیہ کی جانے والی چیزیں عام طور پر آئندہ نسلوں کے لیے بھی اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتی رہتی ہیں۔
مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا کہنا ہے کہ 1995 کے وقف قانون میں مجوزہ تبدیلیاں کرپشن اور بدانتظامی سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
لیکن مسلمانوں کو خوف ہے کہ یہ اقدام وقف جائیدادوں کو (تاریخی مساجد، دکانوں، مزارات، قبرستانوں اور ہزاروں ایکڑ زمین) کو ضبط کرنے، جھگڑوں اور گرائے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
بدھ کے روز ملک کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں اوقاف بل پر شدید بحث ہوئی، جس میں کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن نے اسے غیر آئینی اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا۔
تاہم بی جے پی نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے جمعرات کی صبح اس بل کو منظور کرایا۔ اس بل کے حق میں 288 جبکہ 232 مخالف میں ووٹ آئے۔
اب یہ بل پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں زیر بحث ہے۔ اگر ایوان بالا میں بھی یہ بل منظور ہو گیا تو اسے صدر دروپدی مرمو کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، پھر یہ قانون بن جائے گا۔
وقف بل میں ایک بڑی تبدیلی اس کے مالکانہ حقوق کے قوانین میں کی گئی ہے، جس کا اثر بہت سی مساجد، مزارات اور قبرستانوں پر پڑ سکتا ہے۔ ان جائیدادوں کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں کیونکہ یہ کئی سالوں یا صدیوں پہلے بغیر کسی رسمی کاغذی کارروائی کے عطیہ کی گئی تھیں۔ اس تبدیلی کا مقصد ان جائیدادوں کے مالکانہ حقوق کو واضح کرنا ہے، لیکن اس سے ان جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
بہت سے بھارتی مسلمان خوفزدہ ہیں کہ ہندو قوم پرست حکومت مسلم جائیدادوں پراپنا کنٹرول حاصل کرسکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مودی کے تحت مسلمانوں پر حملے زیادہ ہو گئے ہیں۔ مسلمانوں کو اکثر ان کی خوراک، لباس اور بین المذہبی شادیوں تک کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انڈیا میں وقف جائیدادیں تقریباً ایک ملین ایکڑ (تقریباً 1562.5 مربع میل) پر پھیلی ہوئی ہیں۔ انڈیا کی مختلف ریاستوں اور وفاقی زیرانتظام علاقوں میں 32 ایسے بورڈز ہیں جو حکومت نے وقف جائیدادوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیے ہیں۔ یہ بورڈز ان جائیدادوں کا انتظام اور نگرانی کرتے ہیں۔
ہر ریاست میں بورڈز میں حکومت کے نامزد افراد، مسلم قانون ساز، علماء شامل ہوتے ہیں جو جائیداد کے انتظام کی نگرانی کرتے ہیں۔ ان سب کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔
ہندو دائیں بازو کے گروپوں نے انڈیا بھر میں کئی مساجد پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ مساجد ہندو مندروں کو گرا کر بنائی گئی ہیں۔ 1992 میں انڈیا کے شہر ایودھیا میں ایک 16ویں صدی کی مسجد کو ہندو گروہ نے مسمار کر دیا تھا اور ایسے بہت سے کیسز ملک بھر کی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
انڈیا کی 1.4 ارب کی کل آبادی میں مسلمان 14 فیصد ہیں اور ہندو اکثریتی ملک میں سب سے بڑی اقلیتی قوم ہیں۔ 2013 میں کیے گئے حکومتی سروے کے مطابق مسلمان انڈیا میں سب سے غریب طبقہ ہیں۔









