اسرائیل نیوکلئیر پروگرام پر جاری مذاکرات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ایران

06:3922/04/2025, منگل
جنرل22/04/2025, منگل
AFP
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ امریکہ میں غزہ جنگ کو سپورٹ کرنے والے کچھ دیگر گروپس اور مختلف دھڑوں کے لوگ بھی ہیں۔‘
تصویر : روئٹرز / فائل
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ امریکہ میں غزہ جنگ کو سپورٹ کرنے والے کچھ دیگر گروپس اور مختلف دھڑوں کے لوگ بھی ہیں۔‘

ایران نے پیر کے روز اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ نیوکلئیر پروگرام پر جاری مذاکرات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقعی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک طرح کی اتحادی قوت بن رہی ہے، جو کہ سفارتی عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے پیچھے اسرائیل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ امریکہ میں غزہ جنگ کو سپورٹ کرنے والے کچھ دیگر گروپس اور مختلف دھڑوں کے لوگ بھی ہیں۔‘

جمعرات کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران کے جوہری مقامات پر حملہ کرنے سے روک دیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہ اصرار کیا کہ اسرائیل کبھی بھی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مغربی طاقتوں اور اسرائیل، جنہیں ماہرین مشرق وسطیٰ میں واحد جوہری طاقت سمجھتے ہیں، نے طویل عرصے سے تہران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ایران نے ہمیشہ اس الزام کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف شہری مقاصد کے لیے ہے۔

2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے تین سال پہلے کیے گئے تاریخی جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال لیا تھا، جس کے تحت ایران پر جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیاں نرم کی گئی تھیں۔ ایک سال بعد ایران نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنا شروع کر دی، خاص طور پر یورینیم کو طے شدہ مقدار کو بڑھا دیا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق تہران نے یورینیم کو 60 فیصد تک بڑھا دیا ہے، جو کہ ہتھیار تیار کرنے کے لیے درکار 90 فیصد سطح کے قریب ہے اور وہ بڑی مقدار میں فشیل مواد جمع کر رہا ہے۔

2015 کے جوہری معاہدے میں ایران کو 3.67 فیصد تک یورینیم بڑھانے کرنے کی اجازت تھی۔

ایران اور امریکہ، جو 1979 کی اسلامی انقلاب سے لے کر اب تک ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں، عمان کے ذریعے ثالثی کے تحت تیسرے دور کے مذاکرات کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں۔


#ایران امریکا جوہری مذاکرات
#اسرائیل
#جوہری پروگرام