لائیو: پنجاب میں ساڑھے 14 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر، سندھ میں 50 ہزار افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ

09:5029/08/2025, Cuma
جنرل29/08/2025, Cuma
ویب ڈیسک
سیلاب متاثرہ علاقے سے ایک شخص اپنے مویشیوں کو لے کر نکلتے ہوئے۔
سیلاب متاثرہ علاقے سے ایک شخص اپنے مویشیوں کو لے کر نکلتے ہوئے۔

دریائے چناب کا سب سے بڑا ریلا چنیوٹ اور جھنگ کے قریب ہے جہاں پانی کی سطح بہت زیادہ بلند ہو رہی ہے۔

لائیو پیج: 29 اگست 2025

ینی شفق اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

اب تک کی کچھ اپ ڈیٹس

  • پنجاب میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 20 ہو چکی ہے اور 1700 سے زائد دیہات ڈوب چکے ہیں۔
  • سیلاب سے ساڑھے 14 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں جن کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • دریائے سندھ میں بھی بڑا سیلابی ریلا متوقع ہے جس سے حکام کے مطابق ہزاروں افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔
  • پاکستان کے کئی علاقوں میں مون سون بارشوں کا نیا اسپیل آج سے شروع ہو رہا ہے جو دو ستمبر تک جاری رہے گا۔
  • منگلا، تربیلا، راول، سملی اور خانپور ڈیم تقریباً مکمل بھر چکے ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------

سندھ میں ’انتہائی اونچے درجے کے سیلاب‘ سے 50 ہزار افراد بے گھر ہو سکتے ہیں: پی ڈی ایم اے

پنجاب کے دریاؤں کا سارا پانی پنجند کے مقام پر ایک دریا میں تبدیل ہو جائے گا اور اس کے بعد یہ بڑا سیلابی ریلا دریائے سندھ میں شامل ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں آٹھ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا آ سکتا ہے جس کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

جمعے کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے حکام نے مراد علی شاہ کو ایک بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تین اور چار ستمبر کی درمیانی شب سکھر کے گڈو بیراج پر سات سے آٹھ لاکھ کیوسک پانی داخل ہونے کا امکان ہے۔

اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ اگر انتہائی اونچا سیلابی ریلا آیا تو 50 ہزار سے زیادہ خاندان بے گھر ہو سکتے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کے شمالی اضلاع میں 30 ہزار سے زیادہ ریسکیو اہلکاروں کی تعیناتی کی ہدایات جاری کی ہیں۔

------------------------------------------------------------------------------------

دریائے چناب کے بند کو دھماکے سے اڑانے کی ویڈیو

------------------------------------------------------------------------------------

انڈیا میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی پر چلنے والی گاڑی

انڈین آرمی کی یہ خاص گاڑی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔اس گاڑی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
------------------------------------------------------------------------------------

سیلابی پانی چنیوٹ کے نشیبی علاقوں میں داخل

چنیوٹ شہر کے قریب دریائے چناب کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور حکام کے مطابق دوپہر تین بجے وہاں پانی کا بہاؤ آٹھ لاکھ 55 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔

دریائے چناب کا پانی چنیوٹ کے نشیبی علاقوں میں داخل ہو چکا ہے اور درجنوں دیہات کے ساتھ کئی مرکزی سڑکیں بھی مکمل طور پر ڈوب چکی ہیں۔ جھنگ اور چنیوٹ کو ملانے والی سڑک بھی سیلاب میں ڈوبی ہوئی ہے۔ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو انخلا کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ سیلابی ریلا چند گھنٹوں بعد جھنگ کے قریب تریموں ہیڈورکس پر پہنچے گا۔ تریموں ہیڈ پر پانی گزرنے کی گنجائش تقریباً ساڑھے چھ لاکھ کیوسک ہے اور اس وقت دریائے چناب کا سیلابی ریلا اس گنجائش سے دو لاکھ کیوسک زیادہ ہے۔

تریموں ہیڈورکس کی ایک فائل فوٹو
------------------------------------------------------------------------------------

جھنگ کو بچانے کے لیے ریواز پل پر شگاف ڈال دیا گیا

مقامی ٹی وی ’جیو نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے جھنگ شہر کو سیلاب سے بچانے اور تریموں ہیڈ پر دباؤ کم کرنے کے لیے ریواز پل کے قریب بند کو کنٹرولڈ دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

دریائے چناب کا بڑا سیلابی ریلا ہیڈ قادر آباد کراس کرنے کے بعد اب چنیوٹ اور جھنگ کی طرف بڑھ رہا ہے اور جھنگ کے قریب ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ سات سے آٹھ لاکھ کیوسک تک پہنچنے کی توقع ہے جس سے ہیڈورکس کے اسٹرکچر کو بھی خطرہ ہے۔

ان دونوں شہروں اور تریموں ہیڈورکس کو بڑے سیلاب سے بچانے کے لیے اب دریا کے بند میں شگاف ڈالا گیا ہے۔

------------------------------------------------------------------------------------

پنجاب میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 20 ہو گئی، 1700 دیہات زیرِ آب

پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔

پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ عرفان علی کاٹھیا کے مطابق پنجاب میں ساڑھے چودہ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور سیلاب کی شدت کو دیکھتے ہوئے متاثرین کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد پانی میں پھنسے چار لاکھ انتیس ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے جبکہ صوبے بھر میں 365 ریلف کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں چار ہزار متاثرین موجود ہیں۔ ان کے بقول سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے تین لاکھ سے زائد مال مویشوں کو بھی نکالا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے سربراہ کے مطابق پنجاب میں 1769 دیہات زیر آب آ چکے ہیں اور جب تک پانی سندھ میں داخل نہیں ہو جاتا اُس وقت تک خطرہ برقرار ہے۔

------------------------------------------------------------------------------------

ڈیموں کی کیا صورتِ حال ہے؟

محکمۂ موسمیات نے واپڈا کے ڈیٹا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے دو سب سے بڑے ڈیموں تربیلا اور منگلا تقریباً پورے بھر چکے ہیں اور اپنی انتہائی سطح پر ہیں۔ اس کے علاوہ سملی، راول اور خانپور ڈیم بھی مکمل بھرے ہوئے ہیں۔

------------------------------------------------------------------------------------

پاکستان کے کئی علاقوں میں آج سے پھر بارشیں

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف علاقوں میں مزید مون سون بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 29 اگست سے دو ستمبر تک اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں 30 سے 31 اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی 29 اگست سے دو ستمبر تک شدید بارشوں کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق کشمیر اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں جمعے کو بارشوں کا سلسلہ شروع بھی ہو گیا ہے۔

اسی عرصے کے دوران سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں بھی موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق کراچی میں 30 اگست تا 2 ستمبر تک بارشیں متوقع ہیں جس کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

------------------------------------------------------------------------------------

جمعے کی صبح دریاؤں کی کیا صورتِ حال ہے؟

چناب

دریائے چناب کا سب سے بڑا ریلا ہیڈ قادرآباد سے آگے نکل چکا ہے اور اب چنیوٹ اور جھنگ کے قریب پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔

تاہم ہیڈ قادرآباد پر اب بھی پانی کا بہاؤ دو لاکھ کیوسک ہے جس میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ مگر جھنگ کے قریب تریموں ہیڈ پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعے کی صبح دس بجے چنیوٹ میں پانی کی مقدار آٹھ لاکھ ساڑھے 42 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی جو کہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق دریا کا پانی پہلے ہی چنیوٹ شہر کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ شہر کے نشیبی علاقوں تک پہنچ چکا ہے اور ضلعی انتظامیہ نے جمعرات کی شب ہی شہر کے متعدد محلوں سے آبادی کے انخلا کی ہدایات جاری کر دی تھیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق چنیوٹ اور جھنگ کو سیلاب سے بچانے کے لیے کسی دوسرے مقام پر دریا کے بند میں شگاف بھی ڈالا جا سکتا ہے۔

راوی

دریائے راوی میں اس وقت شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ کیوسک سے زیادہ ہے جو انتہائی درجے کا سیلاب ہے۔

جمعرات کی رات یہاں پانی کی سطح دو لاکھ 20 ہزار کیوسک سے زیادہ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے لاہور کے نواحی علاقے بھی زیرِ آب آئے ہیں جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

اب اس سیلابی ریلے کا رخ ہیڈ بلوکی کی طرف ہے جہاں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہیڈ بلوکی پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 47 ہزار کیوسک ہے۔

ستلج

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح بدستور بلند ہے اور یہاں بھی انتہائی درجے کا سیلاب ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاؤ دو لاکھ 61 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔

------------------------------------------------------------------------------------
##پاکستان
##سیلاب
##پنجاب