انڈین حکومت یاتریوں کے پاکستان جانے پر پابندی ختم کرے: سکھ رہنماؤں کا مطالبہ

14:0417/09/2025, Çarşamba
ویب ڈیسک
کرتارپور میں قائم گرودوارہ دربار صاحب
کرتارپور میں قائم گرودوارہ دربار صاحب

انڈیا کی حکومت نے 12 ستمبر کو فیصلہ کیا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سکھ برادری کے لوگوں کو اس سال گرونانک کے جنم دن کے موقع پر پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سکھ برادری کے رہنماؤں نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یاتریوں کے پاکستان جانے پر عائد پابندی ختم کرے اور انہیں مذہبی مقامات کا دورہ کرنے کے لیے پاکستان آنے کی اجازت دے۔

سکھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی بین الاقوامی اصولوں اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔

یہ مطالبہ پاکستان میں سکھوں کے گرودواروں کا انتظام سنبھالنے والی ’سکھ گرودوارہ پربندھک کمیٹی‘ کے نائب صدر مہیش سنگھ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ تاہم انڈیا کا اس معاملے پر اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان میں سکھ مت کے ماننے والوں کے کئی اہم مذہبی مقامات اور گرودوارے موجود ہیں جن کی زیارت کے لیے ہر سال سیکڑوں سکھ انڈیا سے بھی آتے ہیں۔
کرتار پور کا گرودوارہ سکھوں کے لیے دوسرا مقدس ترین مذہبی مقام ہے۔

تاہم انڈیا کی حکومت نے 12 ستمبر کو فیصلہ کیا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سکھ برادری کے لوگوں کو اس سال گرونانک کے جنم دن کے موقع پر پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انڈیا کے سکھ برادری کو پاکستان جانے سے روکنے کی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ہے جو مئی میں دونوں ملکوں کی جھڑپوں کے بعد سے جاری ہے۔ اس لڑائی کے بعد دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات انتہائی کم سطح پر ہیں۔

تاہم اس کشیدگی کے باوجود پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا سے سکھ برادری اور دیگر مذہبی زائرین اب بھی موجودہ انتظامات کے تحت پاکستان میں اپنے مذہبی مقامات پر آ سکتے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔

مہیش سنگھ کے مطابق انڈیا میں مقیم ہزاروں سکھ یہ امید لیے ہوئے ہیں کہ وہ نومبر میں گرونانک کا 556 واں یومِ پیدائش منائیں گے اور اس کی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے کمیٹی کو یقین دہائی کرائی ہے کہ پاکستان کے دروازے سکھ یاتریوں کے لیے کھلے ہیں اور پاکستان کا ہائی کمیشن انہیں ویزا دے گا۔

ایک اور سکھ رہنما گیانی ہرپریت سنگھ نے انڈین حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انڈیا اور پاکستان کرکٹ میچ کھیل سکتے ہیں تو سکھوں کو بھی پاکستان میں اپنے مذہبی مقامات پر جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے نئی دہلی سے مطالبہ کیا ہے کہ ’وہ سکھوں کے جذبات سے نہ کھیلے۔‘
ننکانہ صاحب میں واقع گرودوارہ جنم استھان جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گرونانک کی پیدائش یہاں ہوئی تھی۔

پاکستانی حکام کے مطابق وہ کرتارپور کے گرودوارے میں انڈین زائرین کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔ کرتارپور میں گرودوارہ دربار صاحب سکھ مذہب کے ماننے والوں کا دوسرا مقدس ترین مذہبی مقام ہے۔ یہاں سکھ مت کے بانی بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس گزارے تھے۔

پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں نے 2019 میں زائرین کے لیے کرتارپور کوریڈور بھی قائم کیا تھا جس کے تحت انڈیا سے لوگ گرودوارہ دربار صاحب کی زیارت کے لیے بغیر ویزا کے آ سکتے ہیں۔ اس گرودوارے کے ذریعے روز ہزاروں انڈین شہری پاکستان آتے ہیں۔

چند ہفتے پہلے بارشوں اور سیلابی ریلے کی وجہ سے یہ گرودوارہ بھی زیرِ آب آ گیا تھا اور یہاں کئی فٹ پانی کھڑا ہو گیا تھا۔ لیکن پانی نکلنے کے فوراً بعد گرودوارے کی صفائی کر کے اسے زائرین کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

پاکستانی عہدے دار غلام محی الدین کے مطابق انڈیا اور دیگر ملکوں سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے کھانے اور رہائش کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر نئی دہلی پابندی ہٹاتا ہے تو امید ہے کہ اس سال انڈین سکھوں کی ریکارڈ تعداد کرتارپور آئے گی۔

##انڈیا
##سکھ
##پاکستان