
انڈیا کی حکومت نے 12 ستمبر کو فیصلہ کیا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سکھ برادری کے لوگوں کو اس سال گرونانک کے جنم دن کے موقع پر پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سکھ برادری کے رہنماؤں نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یاتریوں کے پاکستان جانے پر عائد پابندی ختم کرے اور انہیں مذہبی مقامات کا دورہ کرنے کے لیے پاکستان آنے کی اجازت دے۔
سکھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی بین الاقوامی اصولوں اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔
یہ مطالبہ پاکستان میں سکھوں کے گرودواروں کا انتظام سنبھالنے والی ’سکھ گرودوارہ پربندھک کمیٹی‘ کے نائب صدر مہیش سنگھ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ تاہم انڈیا کا اس معاملے پر اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم انڈیا کی حکومت نے 12 ستمبر کو فیصلہ کیا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سکھ برادری کے لوگوں کو اس سال گرونانک کے جنم دن کے موقع پر پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انڈیا کے سکھ برادری کو پاکستان جانے سے روکنے کی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ہے جو مئی میں دونوں ملکوں کی جھڑپوں کے بعد سے جاری ہے۔ اس لڑائی کے بعد دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات انتہائی کم سطح پر ہیں۔
تاہم اس کشیدگی کے باوجود پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا سے سکھ برادری اور دیگر مذہبی زائرین اب بھی موجودہ انتظامات کے تحت پاکستان میں اپنے مذہبی مقامات پر آ سکتے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔
مہیش سنگھ کے مطابق انڈیا میں مقیم ہزاروں سکھ یہ امید لیے ہوئے ہیں کہ وہ نومبر میں گرونانک کا 556 واں یومِ پیدائش منائیں گے اور اس کی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے کمیٹی کو یقین دہائی کرائی ہے کہ پاکستان کے دروازے سکھ یاتریوں کے لیے کھلے ہیں اور پاکستان کا ہائی کمیشن انہیں ویزا دے گا۔

پاکستانی حکام کے مطابق وہ کرتارپور کے گرودوارے میں انڈین زائرین کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔ کرتارپور میں گرودوارہ دربار صاحب سکھ مذہب کے ماننے والوں کا دوسرا مقدس ترین مذہبی مقام ہے۔ یہاں سکھ مت کے بانی بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس گزارے تھے۔
پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں نے 2019 میں زائرین کے لیے کرتارپور کوریڈور بھی قائم کیا تھا جس کے تحت انڈیا سے لوگ گرودوارہ دربار صاحب کی زیارت کے لیے بغیر ویزا کے آ سکتے ہیں۔ اس گرودوارے کے ذریعے روز ہزاروں انڈین شہری پاکستان آتے ہیں۔
چند ہفتے پہلے بارشوں اور سیلابی ریلے کی وجہ سے یہ گرودوارہ بھی زیرِ آب آ گیا تھا اور یہاں کئی فٹ پانی کھڑا ہو گیا تھا۔ لیکن پانی نکلنے کے فوراً بعد گرودوارے کی صفائی کر کے اسے زائرین کے لیے کھول دیا گیا تھا۔
پاکستانی عہدے دار غلام محی الدین کے مطابق انڈیا اور دیگر ملکوں سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے کھانے اور رہائش کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر نئی دہلی پابندی ہٹاتا ہے تو امید ہے کہ اس سال انڈین سکھوں کی ریکارڈ تعداد کرتارپور آئے گی۔






