غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنا کتنا پیچیدہ ہوسکتا ہے؟

09:036/02/2025, جمعرات
جنرل6/02/2025, جمعرات
ویب ڈیسک
جنگ کے ابتدائی چار مہینوں میں 18.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا
تصویر : فائل / اے پی
جنگ کے ابتدائی چار مہینوں میں 18.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا

ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ پر قبضے کرکے اسے دوبارہ تعمیر کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے، اسے دوبارہ تعمیر کرنے اور فلسطینیوں کو دوسری جگہ آباد کرنے سے متعلق متنازعہ منصوبہ انتہائی پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔

غزہ میں اس وقت سیز فائر جاری ہے اور معاہدے کے دوسرے مرحلے سے متعلق بات چیت شروع ہونے کا امکان ہے۔ تاہم ٹرمپ کے بیان کے بعد جنگ بندی جاری رہنے میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ ہزاروں فلسطینی نارتھ غزہ میں اپنے گھروں کو واپس گئے جو اسرائیلی بمباری کے بعد ملبے کا ڈھیر بنا گیا ہے، سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں، پانی اور بجلی کی بنیادی سہولتیں موجود ہی نہیں اور زیادہ تر ہسپتال کام نہیں کر رہے۔


اقوام متحدہ کی رپورٹ:

تاہم اگر امریکی صدر کے غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے سے متعلق بیان کی بات کریں تو اقوام متحدہ کے مطابق:

  • 1. غزہ کا صرف صاف کرنے میں 21 سال اور اسے مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کرنے میں 350 سال سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
  • 2. اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی دو تہائی عمارتیں، یعنی 2 لاکھ 45 ہزار سے زیادہ گھر، تباہ ہوچکے ہیں۔
  • 3. جنگ کے ابتدائی چار مہینوں میں 18.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اسرائیل نے اس تباہی کا الزام حماس پر لگایا ہے۔
  • 4. اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے کئی علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور وہاں کی آبادی کا بڑا حصہ بے گھر ہو چکا ہے۔

غزہ کا ملبہ

  • 1. غزہ میں اس وقت تقریباً 23 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ غزہ کی تعمیر نو کے لیے سب سے پہلے ملبہ ہٹانے کا کام ہوگا۔
  • 2. غزہ کا رقبہ 356 مربع کلومیٹر ہے اور اقوام متحدہ کا اندازے کے مطابق یہاں اسرائیلی جنگ کے بعد 5 کروڑ ٹن ملبہ موجود ہے جو تقریباً 12 عظیم اہرامِ گیزہ کے برابر ہے۔
  • 3. اگر 100 سے زائد ٹرک بھی مسلسل کام کریں، تو ملبہ صاف کرنے میں 15 سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
  • 4. ملبہ ہٹانے کا عمل مزید پیچیدہ اس لیے ہوگا کہ اس میں بڑی مقدار میں بغیر پھٹے بم اور دیگر خطرناک مادہ اور انسانی باقیات شامل ہیں۔
  • 5. غزہ کی وزارت صحت کے مطابق فضائی حملوں میں مارے جانے والے ہزاروں افراد ابھی تک ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
  • 6. اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق غزہ کا صرف ملبہ ہٹانے میں تقریباً 1.2 ارب ڈالرز لگ سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے کیا کہا تھا؟

یاد رہے کہ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ غزہ پر قبضہ کرکے اسے دوبارہ تعمیر کرے گا اور فلسطینیوں کو کہیں اور آباد کیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ترقیاتی منصوبے سے غزہ کو ایک خوبصورت اور ترقی یافتہ سیاحتی مقام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ ہم وہاں (غزہ میں) موجود تمام خطرناک بغیر پھٹے بموں اور دیگر تباہ کن ہتھیاروں کو ختم کریں گے، انفراسٹرکچر بہتر بنائیں گے اور تباہ شدہ عمارتوں کو ہٹا دیں گے۔ ایک نیا اقتصادی ترقی کا نظام لائیں گے، جس سے روزگار اور رہائش کے مواقع پیدا ہوں گے‘۔

ٹرمپ کے اس بیان پر سعودی عرب، حماس، قطر، اردن اور مصر سمیت کئی ممالک نے مذمت کی تھی۔


یہ بھی پڑھیں:


#مشرق وسطیٰ
#غزہ
#امریکا
#حماس اسرائیل جنگ