
ٹرمپ کے غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے کے بیان پر وائٹ ہاوٴس کی وضاحتیںامریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے اور فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں مستقل طور پر آباد کرنے سے متعلق بیان کی تردید کرتے ہوئے وضاحت دے دی۔
یہ وضاحتیں ٹرمپ کے بیان پر مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے سخت مخالفت کے بعد سامنے آئیں۔
ٹرمپ نے منگل کے روز کہا تھا کہ امریکہ غزہ پر ’قبضہ‘ کرے گا اور فلسطینیوں کو دوسری جگہوں پر آباد کرنے کے بعد اس علاقے کو دوبارہ تعمیر کرے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس منصوبے سے غزہ کو ’مشرق وسطیٰ کا ریویرہ‘ بنایا جا سکتا ہے۔
’یہ ٹرمپ کی جانب سے صرف پیشکش تھی‘
سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا کہ ٹرمپ کا ارادہ کسی سے دشمنی مول لینا نہیں تھا بلکہ انہوں نے صرف ایک ’آفر‘ سامنے رکھی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسی دوران مارکو روبیو نے ٹرمپ کے اُس بیان کو بھی واپس لیا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو ہمسایہ ممالک میں مستقل طور پر آباد کیا جائے گا۔
مارکو روبیو نے وضاحت کی کہ اصل مقصد یہ تھا کہ فلسطینیوں کو غزہ سے ’عارضی طور پر نکالا جائے تاکہ علاقے کی دوبارہ تعمیر اور ملبے کی صفائی کی جا سکے‘۔
’غزہ میں امریکی فوجیوں کا بھیجنے کا ارادہ نہیں‘
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے بعد میں ٹرمپ کے غزہ کے حوالے سے تجویز کو تاریخی قرار دیا، لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے مالی امداد فراہم نہیں کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’امریکہ کا غزہ میں اپنے فوجیوں کو بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘۔
’یہ علاقہ ایک ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ یہ کسی انسان کے رہنے کے قابل جگہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے بہت واضح طور پر کہا تھا کہ وہ مصر، اردن اور دیگر ممالک سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کو عارضی طور پر قبول کریں تاکہ ہم ان کا علاقہ دوبارہ تعمیر کر سکیں‘۔









