غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیل غزہ کو امریکہ کے حوالے کردےگا، ٹرمپ کی اپنے پچھلے متنازع بیان کی وضاحت

11:396/02/2025, جمعرات
جنرل6/02/2025, جمعرات
ویب ڈیسک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
تصویر : آفیشل / سی این این
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیل غزہ کو امریکہ کے حوالے کر دے گا اور اس طرح امریکی فوجیوں کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ بیان ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر شئیر کیا۔ اس پوسٹ میں انہوں نے غزہ سے متعلق اپنے پچھلے متنازع بیان کی وضاحت کی۔

امریکی صدر نے کہا کہ غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیل غزہ کو امریکہ کے حوالے کردے گا۔ فلسطینیوں کو محفوظ اور زیادہ خوبصورت کمیونٹیز میں منتقل کر دیا جائے گا، جہاں نئے اور ماڈرن گھر ہوں گے‘۔

ٹرمپ نے اپنے پچھلے بیان کی وضاحت کرتےہوئے کہا کہ ’غزہ میں امریکی فوجیوں کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے‘۔

فلسطینیوں نے ٹرمپ کے منصوبے کو سختی سے مسترد کیا ہے، کیونکہ انہیں خوف ہے کہ اسرائیل کبھی بھی فلسطینیوں کو واپس غزہ آنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینیوں کو بے دخل کیا گیا تو اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور اس کا اثر اسرائیل کے ساتھ مصر کے امن معاہدے پر پڑے گا۔

یاد رہے کہ مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ 1979 میں طے پایا تھا، جو ایک تاریخی امن معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت مصر نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لایا، جبکہ اسرائیل نے مصر کے ساتھ اپنی زمین واپس کی۔

ٹرمپ اور اسرائیلی حکام نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کو ایک ایسا عمل قرار دیا ہے جو خود ان کی مرضی سے ہوگا۔ تاہم فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت اپنی سرزمین چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ٹرمپ اور اسرائیلی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اگر فلسطینی غزہ چھوڑنے سے انکار کریں تو وہ ان کا کیا ردعمل ہوگا۔ لیکن ہیومن رائٹس واچ اور دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل ہوا تو یہ ’نسلی صفائی‘ کے مترادف ہوگا۔ (یعنی کسی نسلی گروہ کی شہری آبادی کو ایک جغرافیائی علاقے سے طاقت کے ذریعے نکالنا)۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اپنی فوج کو غزہ سے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے انخلا کی تیاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان تیاریوں میں زمینی راستوں کے ذریعے فلسطینیوں کو نکالنا اور سمندر اور ہوائی راستوں سے ان کے انخلا کے لیے خصوصی انتظامات شامل ہیں۔

تاہم اے پی کے مطابق اس طرح کی تیاریوں کے کوئی فوری آثار زمینی سطح پر نہیں ملے۔


یہ بھی پڑھیں:


#ڈونلڈ ٹرمپ
#امریکا
#حماس اسرائیل جنگ
#غزہ