
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر متنازع تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ کا کنٹرول سنبھالنا چاہتے ہیں اور وہ اسے ’خریدنے اور اس کی ملکیت‘ کے لیے سنجیدہ ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کے روز طیارے میں پرواز کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ کو ایک ’بڑی رئیل اسٹیٹ سائٹ‘ کے طور پر دیکھتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو اس کی دوبارہ تعمیر کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’امریکہ خود غزہ کی تعمیر نو نہیں کرے گا بلکہ مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک کو یہ کام سونپا جاسکتا ہے۔ یا پھر کچھ لوگ یہ کام امریکی نگرانی میں انجام دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم غزہ کا کنٹرول سنبھالنے، اس پر قبضہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ حماس وہاں واپس نہ آئے۔ وہاں واپس آنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں، وہ جگہ ایک تباہ شدہ علاقے میں تبدیل ہو چکی ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بے گھر ہونے والے فلسطینی خود بھی غزہ واپس نہیں جانا چاہتے۔
ٹرمپ کے اس بیان پر فلسطینی رہنماوٴں اور عالمی برادری نے شدید ردعمل دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر ہم انہیں کسی محفوظ علاقے میں گھر دے سکیں تو وہ غزہ واپس جانے کی بات نہیں کریں گے۔ وہ صرف اس لیے واپس جانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ جب انہیں متبادل جگہ ملے گی، تو وہ غزہ واپس نہیں جانا چاہیں گے۔‘
حماس کا ردعمل
غزہ میں فلسطینی گروپ حماس نے اتوار کے روز ٹرمپ کی تجویز مخالفت کرتے ہوئے ان کے بیان کو ’احمقانہ‘ قرار دیا۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن عزت الرشق نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’غزہ کوئی پراپرٹی نہیں جو خریدی یا بیچی جا سکے، غزہ فلسطین کی زمین کا ایک لازمی اور مستقل حصہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’فلسطینی مسئلہ کوئی تجارتی لین دین یا جائیداد کا سودا نہیں ہے جسے رئیل اسٹیٹ ڈیلر کی ذہنیت سے دیکھا جائے۔ فلسطینی عوام تمام جبری بے دخلی اور نقل مکانی کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں گے۔ غزہ فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا۔‘
نیتن یاہو کا ردعمل
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ٹرمپ کی تجویز کو ’انقلابی‘ اور ’تخلیقی‘ قرار دیا۔ یہ بیان انہوں نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران دیا، جو ان کے واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے چند گھنٹوں بعد ہوا تھا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے لیے ایک بالکل نئی اور زیادہ فائدہ مند حکمت عملی پیش کی ہے، جو ’انقلابی‘ اور ’تخلیقی‘ سوچ ہے اور اس منصوبے پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اس منصوبے کو عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہیں اور یہ اسرائیل کے لیے کئی نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
اسی دوران اسرائیل کے وزیر دفاع نے اپنی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ کے رہائشیوں کی نقل مکانی کے منصوبےکی تیاری کرے۔
یاد رہے کہ چار فروری کو ٹرمپ نے کہا تھا واشنگٹن غزہ کا کنٹرول سنبھال لے، اسے دوبارہ تعمیر کرے گا اور فلسطینیوں کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس منصوبے سے غزہ کو ’مشرق وسطیٰ کی رویرا‘ (ایک جدید اور خوشحال ساحلی علاقہ) میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے غزہ میں امریکی فوج بھیجنے کا بھی اشارہ دیا تھا۔ اس بیان پر فلسطینیوں اور عالمی برادری نے شدید ردعمل دیا تھا۔
اپنے پہلے بیان کے اگلے دن ٹرمپ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی عارضی ہوگی اور امریکی فوج بھیجنے کے امکان کو بھی مسترد کیا تھا۔
ٹرمپ نے اس منصوبے پر عملدرآمد کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان کی تجویز پر عملدرآمد انتہائی مشکل ہوگا اور اس سے قانونی و اخلاقی مسائل بھی پیدا ہوں گے۔










