
2025 کے نوبیل امن انعام کے لیے 300 سے زائد افراد اور تنظیموں کو نامزد کیا گیا ہے۔ امریکی سیاستدانوں کا دعویٰ ہے کہ اس فہرست میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ فرانسس بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ناروے کے نوبیل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اس سال مجموعی طور پر 338 نامزدگیاں ہوئی ہیں، جن میں 244 افراد اور 94 تنظیمیں شامل ہیں۔ یہ پچھلے سال کی 286 نامزدگیوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے، لیکن 2016 میں درج ہونے والے ریکارڈ 376 نامزدگیوں سے کم ہے۔
اگرچہ نوبیل انعام کی کمیٹی نامزدگیوں کے بارے میں کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کرتی، لیکن کچھ لوگ، جنہیں نوبل انعام کے لیے امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے وہ اپنی طرف سے نامزد کردہ افراد یا تنظیموں کے نام ظاہر کرسکتے ہیں۔
پیر کے روز امریکی کانگریس کے رکن ڈیریل ای سا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ وہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو اس باوقار انعام کے لیے نامزد کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا: "اس انعام کا کوئی اور زیادہ حقدار نہیں۔" بعد میں امریکی میڈیا نے ایسا کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ نامزدگی مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کی کوششوں کے باعث کی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں پیر کے روز امریکی کانگریس کے رکن ڈیریل ای سا نے ایکس (پہلے ٹوئٹر) پر کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ انعام ٹرمپ سے زیادہ کوئی اور حاصل کرنے کا حق دار نہیں۔‘ بعد میں امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ڈیریل ای سا نے ٹرمپ کا نام نوبیل انعام کی نامزدگی کے لیے مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے پیش نظر دیا ہے۔
نوبل انعام کے لیے نامزدگیاں جمع کرانے کی ایک ڈیڈ لائن ہوتی ہے۔ ڈیریل ایسا نے ٹرمپ کو نامزد کرنے کا اعلان تو کر دیا، لیکن جب وہ باضابطہ طور پر اپنی نامزدگی جمع کرائیں گے، تو وہ نوبیل کمیٹی کی مقرر کردہ آخری تاریخ کے بعد ہوگی۔
ڈیریل ای سا کی نامزدگی مقررہ مدت کے بعد جمع کرائی جائے گی، لیکن یوکرینی میڈیا کے مطابق، یوکرین کے رکن پارلیمنٹ اولیکسانڈر میرژکو نے نومبر میں ہی ٹرمپ کو نامزد کر دیا تھا، تاکہ اس وقت کے نو منتخب صدر کی توجہ حاصل کی جا سکے۔
دوسری طرف یوکرین کے رکن پارلیمنٹ اولیکسانڈر میرژکو نے پہلے ہی نومبر میں ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کر دیا تھا۔ یوکرینی میڈیا کے مطابق میرژکو کا مقصد یہ تھا کہ وہ سیاسی یا سفارتی فائدے کے لیے اُس وقت کے نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ کی توجہ حاصل کر سکیں۔
ٹرمپ کو ماضی میں بھی نوبیل امن انعام کے لیے تجویز کیا جا چکا ہے، لیکن اس سال کی نامزدگی خاص طور پر توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یوکرین جنگ کے حوالے سے ماسکو سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے اور امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کے باعث یورپی اتحادیوں کو پریشان کر دیا ہے۔






