امریکی حملے ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کرسکے: امریکی انٹیلیجنس رپورٹ

06:4625/06/2025, بدھ
جنرل25/06/2025, بدھ
ایجنسی
 امریکی انٹیلیجنس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی حملے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے
تصویر : نیوز ایجنسی / روئٹرز
امریکی انٹیلیجنس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی حملے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے

امریکی انٹیلیجنس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی حملے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے، بلکہ صرف چند ماہ کے لیے اس میں رکاوٹ یا تاخیر آئی ہے۔

پیر کی رات صدر ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کو خبردار کیا تھا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کریں۔

تیرہ جون کو اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات سمیت حکومتی عمارتوں اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔ یہ ایران کو 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ جنگ کے بعد سب سے بڑا نقصان تھا۔

ایران دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا، اس نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی فوجی اڈوں اور شہروں پر میزائل حملے کیے۔

اکیس اور بائیس کی درمیانی شپ امریکہ بھی ایران پر اسرائیلی جنگ میں شامل ہوگیا تھا۔ امریکہ نے رات گئے ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات پر حملہ کیا۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے 30 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کے حملے میں ایران کے جوہری پروگرام کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا گیا ہے۔ لیکن ان کے اس دعوے کی تردید ان کی اپنی حکومت کی ایک انٹیلیجنس ایجنسی کی ابتدائی رپورٹ میں کی گئی ہے۔

ان ذرائع نے کہا کہ ایران کا افزودہ یورینیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور چونکہ ایران کا زیادہ تر جوہری پروگرام زمین کے نیچے گہرائی میں ہے، اس لیے اسے صرف عارضی طور پر نقصان پہنچا ہے اور ایک یا دو مہینے کے لیے اس کی پیش رفت میں رکاوٹ آئی ہے۔ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری ریسرچ پروگرام صرف توانائی پیدا کرنے کے لیے ہے۔

البتہ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ انٹیلیجنس رپورٹ بالکل غلط ہے۔

یہ رپورٹ ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی نے تیار کی تھی۔ رپورٹ سے واقف ایک ذرائع نے بتایا کہ امریکی حملوں سے صرف دو جوہری تنصیبات کے داخلی راستے بند ہوئے، لیکن زیرِ زمین عمارتیں تباہ نہیں ہوئیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے بھی ایک نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کچھ سینٹری فیوجز (جو یورینیم افزودہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں) حملوں کے بعد بھی محفوظ ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ہفتے کے آخر میں ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں سے ایران کا پروگرام کمزور ہوا ہے۔ یہ دعویٰ صدر ٹرمپ کے پہلے کے بیان سے الگ تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان تنصیبات کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا گیا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ ایران پر حملے سے ایٹمی تباہی کا خطرہ ختم ہو گیا ہے اور وہ تہران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ’ہم نے دو بڑے اور فوری خطرات ختم کر دیے ہیں۔ ایک ایٹمی تباہی کا خطرہ اور دوسرا 20 ہزار بیلسٹک میزائلوں سے تباہی کا خطرہ۔‘

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے اس جنگ کے خاتمے کو ’ایک عظیم فتح‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران نے کامیابی سے جنگ ختم کی ہے۔

انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی بات کی اور کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ اختلافات حل کرنے کے لیے تیار ہے۔








#ایران اسرائیل جنگ
#امریکا
#مشرق وسطیٰ