
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ہونے والی نسل کشی نے ایک بار پھر اسلامی دنیا میں بڑھتے انتشار کو بے نقاب کردیا ہے۔ مسلم خطوں میں امن اور سلامتی قائم رکھنے کے لیے مسلم دنیا کا متحد ہونا اب لازمی ہوگیا ہے۔
اسلامی ممالک کے درمیان نیٹو جیسے فوجی اتحاد کا قیام ایک فوری ضرورت بن چکا ہے۔ سیاسی اور اقتصادی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مشترکہ اقدار پر متحد ہونا اور تاریخی ذمہ داری کو پورا کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کے غزہ پٹی پر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 64 ہزار 803 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 64 ہزار 264 ہے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیل کی چھ مختلف ممالک پر حملوں کے بعد قطر میں تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) اور عرب لیگ کے مشترکہ ہنگامی سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اس اجلاس میں زور دیا گیا کہ زمین پر نئے حقائق نافذ کرنے کی کوششوں کو روکا اور ان کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔
اگرچہ اسلامی ممالک اکثر ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں، لیکن محض مذمت کے علاوہ مزید کوئی اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے مسلم کمیونٹی میں غصہ پیدا ہورہا ہے۔
آج اسلامی ممالک منقسم اور غیر فعال ہو کر محض تماشائی کا کردار اختیار کر چکے ہیں، اگر اسرائیل کو روکنا ہے تو مسلم دنیا کو متحد ہونا ہوگا۔
لیکن اس کے لیے کون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
اتحاد کی ضرورت
اسلامی ممالک کو اپنے سیاسی اور اقتصادی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مشترکہ اقدار کے گرد متحد ہونا ضروری ہے۔ اگر ممالک ایک دوسرے کے ساتھ متحد نہیں رہیں گے تو امن، تحفظ اور استحکام قائم نہیں رہ سکتا۔ غزہ میں جو حالات ہیں، وہ اس بات کو دوبارہ واضح کر رہے ہیں کہ منقسم قومیں مظالم اور بحرانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
تقریباً 2 ارب مسلمانوں کے متحد نہ ہونے کی وجہ سے چند ممالک اپنا دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
اسلامی نیٹو کا تصور
یہ واضح ہے کہ نیٹو اور اسی طرح کے فوجی اتحاد کس طرح دشمنوں کو حملہ کرنے سے روکتے ہیں۔ اسلامی دنیا کو اپنی دفاعی اور امن کی طاقت قائم کرنی چاہیے۔
ایسا ادارہ صرف فوجی حد تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ یہ سفارتکاری، اقتصادیات اور انسانی خدمات کے میدان میں بھی متحدہ طاقت قائم کرے۔
اقدامات جو کیے جانے چاہئیں
- مشترکہ فوجی طاقت:ہر اسلامی ملک کو چاہیے کہ وہ ایک مخصوص تعداد میں فوجی اور وسائل مختص کرے تاکہ ایک مشترکہ ’امن فوج‘ تشکیل دی جا سکے۔
- اقتصادی فنڈ:ایک مشترکہ دفاعی اور انسانی امداد کا فنڈ قائم کیا جائے، جس میں امیر ممالک مالی معاونت فراہم کریں۔
- سیاسی مرکز:ایک غیر جانبدار شہر (مثلاً استنبول، کوالالمپور، یا دوحہ) میں ’اسلامی دفاعی کونسل‘ قائم کی جائے۔
- قانونی فریم ورک:مظلوم عوام پر کیے جانے والے حملے خود بخود اس اتحاد کی مداخلت کے جواز کے طور پر شمار ہوں۔
اگر اسلامی ممالک نے یہ قدم نہ اٹھایا تو قتل عام جاری رہے گا، اور مسلمان ہر جگہ تنہا رہیں گے۔ جب اتحاد قائم ہو جائے گا، تو کوئی ظالم آسانی سے معصوم لوگوں پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔
تاریخی ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا
آج غزہ میں بہنے والا خون صرف غزہ کا نہیں ہے، بلکہ پوری اسلامی دنیا کا خون ہے۔ اب باتوں کا وقت ختم ہو گیا ہے، اب عمل کا وقت ہے۔
اسلامی دنیا کو اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ایک ’اسلامی نیٹو‘ قائم کرنا ہوگا۔ یہ نہ صرف ایک دینی فریضہ ہے بلکہ ایک اخلاقی فرض بھی ہے۔














