چارلی کرک کا قتل کرنے والے ملزم کا دوست کو بھیجے گئے پیغام میں اعترافِ جرم

12:4117/09/2025, Çarşamba
جنرل17/09/2025, Çarşamba
ویب ڈیسک
واقعے کے بعد رابنسن نے اپنے روم میٹ کے لیے ایک نوٹ لکھ کر اپنے کمپیوٹر کے ’کِی بورڈ‘ کے نیچے رکھ دیا تھا۔
تصویر : اے پی / فائل
واقعے کے بعد رابنسن نے اپنے روم میٹ کے لیے ایک نوٹ لکھ کر اپنے کمپیوٹر کے ’کِی بورڈ‘ کے نیچے رکھ دیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک کے قتل میں ملوث گرفتار ملزم 22 سالہ نوجوان ٹائلر رابنسن نے اپنے ساتھی کو بھیجے گئے پیغام میں قتل کرنے کا اعتراف کردیا۔

خبر رساں ادارے اے اپی کے مطابق ٹائلر رابنسن نے 10 ستمبر کو ایک یونیورسٹی کی عمارت کی چھت سے ایک گولی چلائی۔ بعد ازاں، استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی رومانوی ساتھی کو میسج کیا، جس کے ساتھ وہ سینٹ جارج، یوٹاہ کے قریب رہتا تھا، جو کیمپس سے تقریباً 240 میل (387 کلومیٹر) جنوب مغرب میں واقع ہے۔

واقعے کے بعد رابنسن نے اپنے روم میٹ کے لیے ایک نوٹ لکھ کر اپنے کمپیوٹر کے ’کِی بورڈ‘ کے نیچے رکھ دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ٹائلر کے اپنے روم میٹ، جو کہ ایک ٹرانس جینڈر ہیں، کے ساتھ رومانوی تعلقات تھے۔



جیفری گرے نے مزید بتایا کہ اُس نوٹ میں لکھا گیا تھا کہ ’میرے پاس چارلی کرک کو ختم کرنے کا موقع ہے اور میں یہ کرنے جا رہا ہوں۔‘

رپورٹ کے مطابق رابنسن کے ساتھی نے یہ معلومات کبھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نہیں دیں۔ رابنسن اگلی رات تک مفرور رہا، جب اس کے والدین نے حکام کی جانب سے جاری کردہ تصویر میں اپنے بیٹے کو پہچان لیا۔ اس کے بعد انہوں نے رابنسن کی گرفتاری کے لیے مدد فراہم کی۔

ملزم کے خلاف درج کی گئی فردِ جرم میں رابنسن کے ساتھی کا نام شامل نہیں تھا۔ حکام نے رابنسن پر قتل اور دیگر الزامات عائد کیے ہیں اور اسے سزائے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کیا رابنسن کے علاوہ کسی اور کو اس قتل کی منصوبہ بندی کا علم تھا یا کسی نے اس کی مدد کی۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا اس کے ساتھی بھی ان افراد میں شامل ہے جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

منگل کے روز رابنسن نے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے مختصراً جج کے سامنے پیشی دی۔ دورانِ سماعت وہ زیادہ تر سیدھا دیکھتے رہے اور کبھی کبھار ہلکا سا سر ہلاتے رہے، جب جج نے الزامات پڑھ کر سنائے اور کہا کہ اس کے لیے ایک وکیل مقرر کیا جائے گا۔

31 سالہ چارلی کرک دو بچوں کے والد تھے، وہ سیاست میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ انہیں ریپبلکن یوتھ موومنٹ کو متحرک کرنے اور 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو دوبارہ وائٹ ہاؤس جیتنے میں مدد دینے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا، اپنے پوڈکاسٹ اور کیمپس ایونٹس کے ذریعے بڑی تعداد میں فالوورز حاصل کیے۔

حکام نے یہ نہیں بتایا کہ رابنسن نے چارلی کرک کو کیوں مارا۔ تاہم چارلی کرک کو اُس وقت گولی ماری گئی جب وہ ایک ایسے سوال کا جواب دے رہے تھے جس کا تعلق ماس شوٹنگ، اسلحہ اور ٹرانسجینڈر سے تھا۔


یہ بھی پڑھیں:



#امریکا
#چارلی کرک
#ڈونلڈ ٹرمپ