
پاکستان اور افغانستان کی جھڑپیں ہفتے کو تیسرے دن میں داخل ہو گئی ہیں جس پر کئی ملکوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری سے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے جب کہ امریکہ نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کی ہے۔
پاکستان نے افغان طالبان کی درجنوں سرحدی چوکیاں تباہ کرنے اور کئی کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستان کے مطابق اس نے افغانستان میں طالبان کی عسکری تنصیبات کو بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان کا سینکڑوں طالبان جنگجووٴں کی ہلاکت کا دعویٰ
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت کارروائیوں میں 28 فروری کی صبح تک 331 افغان اہلکار ہلاک کیے جا چکے ہیں جب کہ 500 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
ان کے بقول مخالف فریق کی 104 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں جب کہ 22 قبضے میں لی جا چکی ہیں اور درجنوں گاڑیاں بھی تباہ کی گئی ہیں۔ عطا تارڑ کے بقول افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔
گزشتہ روز پاکستان کی فوج کے ترجمان کی جانب سے بھی ایسے ہی نقصانات کی تفصیل بتائی گئی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی پریس کانفرنس میں 12 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی تھی۔ فوج کے ترجمان نے کارروائیاں جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا تھا۔
ادھر افغانستان کے طالبان حکام کی جانب سے بھی پاکستان کو بھرپور جواب دینے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ افغان طالبان نے جمعرات کی رات پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کئی چیک پوسٹس تباہ کر دی ہیں اور 55 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
افغان حکام کا کہنا تھا کہ ان کے صرف 13 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جب کہ متعدد شہری بھی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم دونوں فریقین کے ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
افغان طالبان نے متعدد فوجیوں کو یرغمال بنانے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ گزشتہ روز طالبان کی جانب سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں فضائی حملوں کا دعویٰ بھی کیا گیا جس پر پاکستان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے چھوٹے ڈرون لانچ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جنہیں بغیر کسی نقصان کے تباہ کر دیا گیا۔
افغان طالبان کا ایک بار پھر پاکستان پر فضائی حملوں کا دعویٰ
ہفتے کی صبح افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ایک بار پھر پاکستان پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق اس نے جمعے کی رات گئے میران شاہ اور اسپن وام کے علاقوں میں پاکستان کی فوجی چھاوٴنیوں پر حملے کر کے انہیں تباہ کر دیا ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔
طالبان وزارت دفاع کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کے افغانستان میں تواتر سے جاری فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
کارروائیاں جاری رہیں گی: ترجمان وزیر اعظم پاکستان
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا بیان میں سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا ہے کہ ’سرحد پار کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک افغان طالبان اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔’
عالمی برادری کی تشویش
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ماضی میں ہوئی جھڑپوں میں ترکیہ اور قطر نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا اور جنگ بندی کے بعد دونوں فریقین کے مذاکرات کرائے تھے۔ تاہم ترکیہ میں ہونے والے یہ مذاکرات بلانتیجہ ختم ہو گئے تھے۔
حالیہ جھڑپوں کے بعد ایک بار پھر مختلف ممالک کی جانب سے صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے وزرائے خارجہ کا پاکستان اور افغان طالبان کے وزرائے خارجہ سے رابطہ ہوا ہے جب کہ ایران کی جانب سے بھی ثالثی کی پیش کش کی گئی ہے۔
یورپی یونین نے دونوں فریقین سے کشیدگی میں کمی لانے اور مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی فوری لڑائی روکنے پر زور دیا ہے۔
روس کی جانب سے بھی لڑائی روکنے اور مذاکرات سے معاملے کے حل پر زور دیا گیا ہے جب کہ چائنہ نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مدد کو تیار ہے۔
امریکہ کی جانب سے پاکستان کی کھل کر حمایت
تاہم امریکہ نے کھل کر پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طالبان کے حملوں کے جواب میں پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بھی کہا ہے کہ حالیہ تنازع میں واشنگٹن پاکستان کو جارح کے طور پر نہیں دیکھتا۔ اسلام ٓباد اپنے سیکیورٹی چینلنجز کی وجہ سے دباوٴ میں ہے۔ عہدے دار کا کہنا تھا کہ امریکہ کو امید ہے کہ صورت حال مزید نہیں بگڑے گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اچھا کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔‘






